ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں /  سب ساتھ آئیں، پرالی سے بنائیں گے سی این جی:کجریوال

 سب ساتھ آئیں، پرالی سے بنائیں گے سی این جی:کجریوال

Wed, 06 Nov 2019 19:07:52    S.O. News Service

نئی دہلی،6نومبر(آئی این ایس انڈیا)دہلی۔ این سی آر میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ بتائی جانے والے پرالی کے تناظر میں دہلی وزیر اعلی اروند کجریوال ایک تجویز لے کر آئے ہیں۔کجریوال کا مشورہ ہے کہ اس پرالی سے سی این جی بنائی جائے۔ان کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی اور اقتصادی دونوں حساب سے ممکن ہے۔کجریوال نے اس کے لئے تمام حکومتوں (ریاست) کو ساتھ آنے کو کہا۔بتا دیں کہ اس سے پہلے بھی پرالی سے سی این جی بنائے جانے پر غور کیا گیا،اس پر کام بھی شروع ہو چکا ہے۔دہلی کے وزیر اعلی اروندکجریوال نے لکھاکہ آج میری ماہرین سے میٹنگ ہوئی تھی،پرالی سے سی این جی بنانا تکنیکی اور اقتصادی طور پر قابل ہے۔اس سے روزگار، کسانوں کو اضافی کمائی ہو گی۔ساتھ ہی سالانہ طور پر ہونے والی آلودگی کا مسئلہ بھی کم ہو گا،تاہم اس کے لئے تمام حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
پرالی کے دھوئیں سے دہلی میں پھیلنے والی آلودگی سے لوگوں کو راحت دلانے کے لئے کرنال میں ایک پلانٹ لگایا جا رہا ہے، ایسی خبریں اکتوبر میں آئی تھی۔جرمنی ٹیکنالوجی والے اس پلانٹ میں پرالی سے سی این جی بنائی جائے گی۔اس کے بعد اس سی این جی کو ارد گرد کے دیہات کے ٹریکٹروں میں استعمال کیا جائے گا۔اس کے لئے 12 ٹریکٹروں کو سی این جی میں تبدیل کیا گیا ہے۔شاید ملک میں یہ پہلے سی این جی ٹریکٹر ہوں گے،جو سی این جی سے چلایا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ ان ٹریکٹروں میں سی این جی لگنے سے ان کی طاقت کم نہیں ہوگی، بلکہ ڈیزل کے مقابلے 10 فیصد زیادہ ہو جائے گی۔ساتھ ہی ایندھن کے طور پر سی این جی استعمال کرنے سے کسانوں کو اس میں 40 فیصد کی بچت بھی ہوگی۔
اس پلانٹ کو آل انڈیا پٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن کے سربراہ اجے بنسل کی طرف سے کئی کمپنیوں کی پارٹنر شپ میں لگایا جا رہا ہے، پلانٹ اگلے سال مئی سے کام کرنا شروع کر دے گا۔اس کے لئے مشینیں جرمنی سے درآمد کی جائیں گی،پلانٹ میں ارد گرد کے 10-15 دیہات کے کھیتوں کی پرالی جلانے سے روکا جا سکے گا،کسانوں سے ان کی کھیتوں میں کھڑی پرالی کو لے کر پلانٹ میں لایا جائے گا،جہاں اسے مختلف بیکٹریا سے گلاکر پاؤڈر میں تبدیل کیا جائے گا،پاؤڈر بننے کے بعد اس سے سی این جی سمیت دو دیگر گیسوں کا بھی پیداوار ہونا شروع ہو جائے گا۔
پلانٹ میں 100 ٹن پرالی سے بنے پاؤڈر سے ہر روز 10 ہزار کلو سی این جی کی پیداوار کی جائے گی،شروع میں اس دائرے کو شروع ہونے میں ایک ماہ کا وقت لگے گا،پھر ہر دن پلانٹ میں 100 ٹن پرالی ڈالتے جائیں گے اور 10 ہزار کلو سی این جی کی پیداوار ہوتی رہے گی۔اس سی این جی کو ان کسانوں کو سستی کی شرح پر فروخت کیا جائے گا،جن کی پرالی پلانٹ میں لائی جائے گی،اس سے کھیتوں میں کھڑی پرالی جلانے سے جہاں آلودگی پھیلے گا۔وہیں پرالی سے بنی سی این جی سستی کی شرح پر کسانوں کو ملے گی،اس کے لئے کسانوں کے کارڈ بھی بنائے جائیں گے۔
 


Share: